ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی اپوزیشن کے نشانے پر؛ اپوزیشن پارٹیاں کمانڈر ابھینندن کی پاکستان میں گرفتاری پر پریشان مگر مودی پارٹی کو بچانے کی فکر میں

مودی اپوزیشن کے نشانے پر؛ اپوزیشن پارٹیاں کمانڈر ابھینندن کی پاکستان میں گرفتاری پر پریشان مگر مودی پارٹی کو بچانے کی فکر میں

Thu, 28 Feb 2019 12:43:59    S.O. News Service

نئی دہلی 28/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی)  ہندوستانی فضائیہ کے وِنگ کمانڈر ابھینندن  پاکستانی فوج کی گرفت میں آنے کےبعد ایک طرف ہندوستان کے حالات کشیدہ  ہیں اورہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کے بادل منڈلاتے نظر آرہے ہیں، ایسے میں   پی ایم نریندر مودی کا تقریباً 15000 مقامات پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پارٹی کارکنان اور والنٹیر سے خطاب کرنا حیران کرنے والا ہے۔

ملک کے حالات  کو دیکھتے ہوئے  کانگریس نے  گجرات میں آج 28 فروری کو ہونے والی جن سنکلپ ریلی کو رد کردیا ہے تو اُدھر  دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی بھوک ہڑتال  ملتوی کر دی ہے، حالات کو دیکھتے ہوئے  کئی سیاسی پارٹیوں نے اپنے طے شدہ پروگراموں کویا تو منسوخ کردیا ہے یا پھرمعطل کر دیا ہے، مگر حکمراں جماعت بی جے پی اور ملک کے وزیراعظم نریندر  مودی بذات خود سیاسی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مودی کے سیاسی  پروگرام پر اپوزیشن نے  اب  بی  جے پی کے خلاف مورچہ سنبھال لیا ہے اور مودی کو راست نشانے پر لیا ہے ۔

کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجیوالا نے   کہا کہ یہ ایک غلط ترجیحات کو چمکانے والا معاملہ ہے، ایک طرف 132 کروڑ ہندوستانی اپنے بہادر وِنگ کمانڈر ابھینندن کی جلد اور  بحفاظت واپسی کے لئے دعائیں کررہا ہے، وہیں مودی جی انتخابی  سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔

بہوجن سماج پارٹی کے چیف مایاوتی نے  کہا کہ  مودی عوام کے جذبات سے کھیل رہے ہیں، ایک ایسے وقت میں جب ملک میں جنگ کے بادل منڈلارہے ہوں اور ملک کو صحیح قیادت کی ضرورت ہو، وزیراعظم مودی قومی سلامتی کو پس پشت ڈال کر اپنی پارٹی کو بچانے کی فکر میں لگے ہیں۔ مایاوتی نے کہا کہ مودی کا اپنے بی جے پی ورکروں سے خطاب کرنا ملک کے عوام کے جذبات سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔

عوام اس بات پر تعجب کا اظہار کررہے ہیں کہ  بی جے پی لیڈران آج یعنی 28 فروری کو ہونے والی اس ویڈیو کانفرنسنگ کی خوب تشہیر بھی کر رہے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ یہ دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی ویڈیو کانفرنسنگ ہوگی۔ پی ایم مودی ’نمو ایپ‘ کے ذریعہ ایک کروڑ بی جے پی کارکنان سے مخاطب ہوں گے اور اس پروگرام کو ’میرا بوتھ سب سے مضبوط‘ نام دیا گیا ہے۔ اس ویڈیو کانفرنسنگ میں بی جے پی صدر امت شاہ بی جے پی کے دہلی ریاستی دفتر میں پروگرام کو دیکھیں گے جب کہ بی جے پی حکمراں ریاستوں کے سبھی وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کے وزیر بھی اس میں شامل ہوں گے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کے یو پی ریاستی صدر مہندر ناتھ پانڈے راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقہ امیٹھی میں پی ایم مودی کی ویڈیو کانفرنسنگ کا حصہ بنیں گے۔ جس طرح کا ماحول اس ویڈیو کانفرنسنگ کو لے کر بنایا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ’انتخابی سیاست‘ ہو رہی ہے اور آئندہ عام انتخابات میں بی جے پی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بی جے پی اور پی ایم نریندر مودی کے ذریعہ اس ویڈیو کانفرنسنگ کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی آوازیں  اٹھنے لگی ہیں اور سوال اٹھائے جانے لگے ہیں کہ پاکستان میں پھنسے ہندوستانی پائلٹ کو بحفاظت واپس لانے کی کوششوں کی جگہ ’سیاسی روٹی‘ سینکنے میں پی ایم مودی کیوں مصروف ہیں۔ عآپ لیڈر سنجے سنگھ نے اس سلسلے میں جمعرات کی صبح ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ایسے وقت میں جب کہ ہمارا ایک جانباز پائلٹ ابھینندن پاکستان کے قبضے میں ہے اور سرحد پر کشیدگی ہے، ہماری فوج پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو تباہ کرنے میں مصروف ہے، دیکھیے بی جے پی لیڈروں کے بیان ’بحران میں سیاست‘ بے شرم بی جے پی لیڈر ہی کر سکتے ہیں۔‘‘ ایک دیگر ٹوئٹ میں انھوں نے ہندوستانی میڈیا کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’چلو میڈیا والو ملک اور فوج کی فکر چھوڑ کر مودی جی کا بوتھ مضبوط کرنے میں جٹ جاؤ اور ہاں، سنو ’پوری تقریر لائیو دکھانا‘ آج ملک کو پتہ چل جائے گا کہ ٹی وی کو ملک کی فکر ہے یا مودی کے الیکشن کی۔‘


Share: